السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: النهي عن البول في مغتسله أو متوضاه ثم يتطهر فيه كراهة أن يصيبه شيء من البول عند صب الماء باب: غسل یا وضو کی جگہ میں پیشاب کر کے پھر وہیں طہارت حاصل کرنے کی ممانعت کا بیان، اس کراہت کے پیشِ نظر کہ پانی بہاتے وقت پیشاب کا کوئی چھینٹا پڑ جائے
حدیث نمبر: 475
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْبَوْلَ فِي الْمُغْتَسَلِ وَقَالَ: " إِنَّ مِنْهُ الْوَسْوَاسَ ". كَذَا رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے اور کہتے تھے: ”یہ وسوسے پیدا کرنے کا سبب ہے۔“ یہ قول یزید بن ابراہیم تستری کا ہے۔