السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ، فَأَوْغِلْ فِيهِ بِرِفْقٍ، وَلَا تُبَغِّضْ إِلَى نَفْسِكَ عِبَادَةَ رَبِّكَ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لَا سَفَرًا قَطَعَ، وَلَا ظَهْرًا أَبْقَى، فَاعْمَلْ عَمَلَ امْرِئٍ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَمُوتَ أَبَدًا، وَاحْذَرْ حَذَرًا يَخْشَى أَنْ يَمُوتَ غَدًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ دین مضبوط ہے، اس میں نرمی کے ساتھ شامل ہو اور اپنے نفس کو اپنے رب کی عبادت سے متنفر نہ کر اور نہ تو اتنا آگے نکل جا کہ اپنے مقصد کو کھو بیٹھے اور ایسے شخص کا سا عمل کر جس کا گمان ہے کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا اور ڈرنا چھوڑ دے کہ کہیں تجھے کل ہی موت نہ آجائے۔“