السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ بُرَيْدَةُ: انْطَلَقْتُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً، فَجَعَلْتُ أُعَارِضُهُ وَأَحْبِسُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَعَانِي فَأَخَذَ بِيَدِي، فَرَأَى رَجُلًا يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ: " أَتَرَاهُ مُرَائِيًا، أَتَرَاهُ مُرَائِيًا؟ " قَالَ: فَتَرَكَ يَدَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ: " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا " وَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى " فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ ".عیینہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں چل رہا تھا، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو گمان کیا کہ آپ ﷺ کو کوئی ضرورت ہے۔ کبھی تو میں آپ ﷺ کے سامنے آتا اور کبھی چھپ جاتا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، وہ رکوع و سجود زیادہ کررہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو میرے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے الگ کرلیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میانہ روی اختیار کرو، تم میانہ روی اختیار کرو۔“ پھر آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا اور فرمایا: ”جس نے اس دین کے بارے میں سختی کی تو یہ اس پر غالب آجائے گا۔“