السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4734
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا، وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ، وَلَا نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ".حافظ ثناء اللہ
حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی نماز اور نفلی روزہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ مہینے میں روزے رکھنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ کا روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اور جب آپ ﷺ مہینے کے روزے چھوڑنے شروع کر دیتے تو ہم خیال کرتے کہ آپ ﷺ اس مہینے کے روزے نہیں رکھیں گے۔ رات کے جس حصہ میں ہم آپ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور جب سوئے ہوئے دیکھنا چاہتے تو بھی دیکھ لیتے۔“