السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4732
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الشَّاعِرُ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ " قُلْتُ: بَلَى قَالَ: " فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ، وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، إِنَّ لِعَيْنِكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ ". ⦗٢٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
سائب بن فروخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تم دن کو روزہ اور رات کو قیام کرتے ہو۔“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو نظر جاتی رہے گی اور تھک جاؤ گے۔ تیری آنکھوں اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے، روزہ رکھ، افطار کر، قیام کر اور سو بھی۔“