السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من نام على غير نية أن يقوم حتى أصبح باب: اس شخص کا بیان جو قیام کی نیت کے بغیر سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔
حدیث نمبر: 4727
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ إِذَا نَامَ، كُلَّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ مَكَانَهَا: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتِ الثَّانِيَةُ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتِ الثَّالِثَةُ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ. فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ أَخِيهِ أَبِي بَكْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تمہارے سر کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، جب تم سوتے ہو۔ ہر گرہ لگانے کے بعد وہ کہتا ہے: ”رات بڑی لمبی ہے، تو سو جا۔“ جب بندہ بیدار ہوتا ہے، اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اگر وضو کرلے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ پھر وہ صبح چست اور خوشگوار موڈ میں ہوتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ صبح کرتا ہے اور سست اور خبیث النفس ہوتا ہے۔“