السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من نام على غير نية أن يقوم حتى أصبح باب: اس شخص کا بیان جو قیام کی نیت کے بغیر سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔
حدیث نمبر: 4726
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ، مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ، أَوْ قَالَ: فِي أُذُنِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
ابووائل، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص کا نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا گیا کہ یہ صبح تک سویا رہتا ہے، نماز کے لیے نہیں اٹھتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے“ یا فرمایا: ”کان میں۔“