السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المريض يترك القيام بالليل أو يصلي قاعدا باب: بیمار کا رات کا قیام چھوڑ دینا یا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4721
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا الْأَسْوَدُ قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا يَقُولُ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ، لَمْ أَرَهُ قَرَبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى. مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: ٢] ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زُهَيْرٍ.حافظ ثناء اللہ
اسود کہتے ہیں: میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے ایک یا دو راتیں قیام نہ کیا۔ ایک عورت کہنے لگی: ”اے محمد! میں امید کرتی ہوں کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے (معاذ اللہ)، میں نے اس کو آپ کے قریب دو یا تین راتوں سے نہیں دیکھا۔“ اللہ نے یہ آیات اتار دیں: ﴿وَالضُّحَىٰ * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ﴾ [سورة الضحى: 1-3] ”قسم ہے روزِ روشن کی اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔ تمہارے رب نے تمہیں نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔“