السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يرفع صوته بالقراءة شديدا إذا كان يتأذى به من حوله باب: اس شخص کا بیان جس نے قراءت میں اپنی آواز کو بہت زیادہ بلند نہیں کیا جب اس سے اردگرد کے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہو۔
حدیث نمبر: 4704
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ، عَنِ الْبَيَاضِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: " إِنَّ الْمُصَلِّيَ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ بِهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوحازم، تمار بیاضی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف آئے اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور قراءت کی وجہ سے ان کی آوازیں بلند تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، وہ دیکھے، وہ کیا سرگوشی کر رہا ہے اور تم ایک دوسرے سے قراءت بلند نہ کرو۔“