السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صفة القراءة في صلاة الليل في الرفع والخفض باب: رات کی نماز میں بلند اور پست آواز سے قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ " قَالَ: لَقَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ فَقَالَ: " مَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أحْتَسِبُ بِهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: " ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا "، وَقَالَ لِعُمَرَ: " اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا "..عبداللہ بن رباح، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ آہستہ آواز سے تلاوت کر رہے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو وہ بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے۔ جب دونوں رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوبکر! میرا گزر تیرے پاس سے ہوا تو تم نماز کی حالت میں اپنی آواز کو پست کیے ہوئے تھے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سنا رہا تھا اس کو جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا۔ آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عمر! میں تیرے پاس سے گزرا تو تم نے اپنی آواز کو بلند کیا ہوا تھا۔“ تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی آواز کو تھوڑا سا بلند کرو“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی آواز کو پست کرو۔“