السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: عدد ركعات قيام النبي صلى الله عليه وسلم وصفتها باب: نبی کریم ﷺ کے قیام اللیل کی رکعات کی تعداد اور ان کی کیفیت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ فِيهِ: " ثُمَّ قَامَ، وَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِي فَجَعَلَ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قُلْتُ: قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى اسْتَقْبَلَ، وَرَأَيْتُهُ يَنْفُخُ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ⦗١٢⦘ وَصَلَّى لِلنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ". قَالَتْ عَائِشَةُ: " لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ نَامَ عَيْنُهُ إِلَّا اسْتَنْبَهَ قَلْبُهُ، وَإِنْ نَامَ قَلْبُهُ اسْتَيْقَظَتْ عَيْنَاهُ ".کریب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا، پھر انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا، آپ ﷺ میرے کانوں کو چھو رہے تھے گویا آپ ﷺ مجھے بیدار کر رہے ہوں، پھر آپ ﷺ نے دو خفیف رکعتیں پڑھیں۔ آپ ﷺ نے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وتر سمیت گیارہ رکعات ادا کیں، پھر آپ ﷺ سو گئے۔ میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ خراٹے لے رہے تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! نماز!“ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کوئی نبی ایسا نہیں اس کی آنکھیں سو جائیں مگر اس کا دل جاگتا ہے اور اگر دل سو جائے تو آنکھیں جاگتی ہیں۔