حدیث نمبر: 465
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَزَادَ فِيهِ {غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} [البقرة: ٢٨٥]، قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَمْ أَجِدْهَا إِلَّا فِي رِوَايَةِ ابْنِ خُزَيْمَةَ وَهُوَ إِمَامٌ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي نُسْخَةٍ قَدِيمَةٍ لِكِتَابِ ابْنِ خُزَيْمَةَ لَيْسَ فِيهِ هَذِهِ الزِّيَادَةُ، ثُمَّ أُلْحِقَتْ بِخَطٍّ آخَرَ بِحَاشِيَتِهِ، فَالْأَشْبَهُ أَنْ تَكُونَ مُلْحَقَةً بِكِتَابِهِ مِنْ غَيْرِ عِلْمِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، أَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: ثنا جَدِّي، فَذَكَرَهُ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ، وَصَحَّ بِذَلِكَ بُطْلَانُ هَذِهِ الزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن ابو بکر رحمہ اللہ اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور یہ اضافہ کرتے ہیں: ﴿غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾ [سورة البقرة: 285] ”اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے“ [باطل]
(ب) امام خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسرائیل رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ زیادتی صرف امام خزیمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ملی ہے۔ پھر میں نے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے قدیم نسخہ کو دیکھا تو اس میں یہ زیادتی نہیں تھی، پھر ایک خط کھینچ کر اس کو حاشیہ میں ملا دیا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الحاق ان کے علم کے بغیر ان کی کتاب میں کر دیا گیا ہو۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 465