السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في قيام الليل باب: قیام اللیل کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 4647
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا أَنْ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَانْجَفَلَ النَّاسُ قَبْلَهُ، فَقَالُوا: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجِئْتُ فِي النَّاسِ؛ لَأَنْظُرَ إِلَى وَجْهِهِ، فَلَمَّا أَنْ رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ ⦗٧٠٧⦘ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ سَمِعْتُ مِنْهُ أَنْ قَالَ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ آئے اور کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں بھی لوگوں کے ساتھ مل کر آیا، تاکہ آپ ﷺ کی زیارت کروں۔ جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، سب سے پہلی جو بات میں نے نبی ﷺ سے سنی وہ یہ ہے: ”اے لوگو! کھانا کھلاؤ، سلام کرو، صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“