السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أنها بالجماعة أفضل لمن لا يكون حافظا للقرآن باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ اسے باجماعت پڑھنا اس شخص کے لیے زیادہ افضل ہے جو حافظِ قرآن نہ ہو
حدیث نمبر: 4612
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " مَا هَؤُلَاءِ؟ " فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ أُنَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو دیکھا چند لوگ رمضان میں مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن یاد نہیں ہے اور وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے درست کام کیا اور انہوں نے اچھا کیا۔“