حدیث نمبر: 4535
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أَوتِرُ " وَقَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ " قَالَ: وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجدِ عمرو بن شرحبیل میں تھے، نماز کے لیے اقامت کہی گئی، لوگ ان کا انتظار کر رہے تھے، وہ آئے تو انھوں نے کہا: ”میں وتر پڑھ رہا تھا۔“ راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا اذان کے بعد وتر ہے؟ تو وہ فرمانے لگے: ”ہاں، اقامت کے بعد بھی۔“ راوی کہتے ہیں: انھوں نے نبی ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا، پھر آپ بیدار ہوئے اور نماز پڑھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4535
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»