السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: يصليه متى ذكره باب: اس قول کا بیان کہ جب اسے یاد آئے وہ اسے (وتر کو) پڑھ لے
حدیث نمبر: 4534
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ وَبَرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَمَّنْ تَرَكَ الْوِتْرَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسَ أَيُصَلِّيهَا؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ تَرَكْتَ صَلَاةَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ هَلْ كُنْتَ تُصَلِّيهَا؟ " قَالَ: قُلْتُ: فَمَهْ؟، قَالَ: " فَمَهْ ".حافظ ثناء اللہ
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو وتر طلوعِ شمس تک چھوڑ دیتا ہے کہ کیا وہ اسے پڑھے؟ وہ کہنے لگے: آپ کا خیال ہے کہ اگر آپ صبح کی نماز کو سورج طلوع ہونے تک چھوڑ دیں تو کیا آپ اس کو پڑھیں گے؟ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ٹھہر ٹھہر۔