السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أصبح ولم يوتر فليوتر ما بينه وبين أن يصلي الصبح باب: اس شخص کا بیان جس نے صبح کر لی اور وتر نہ پڑھے تو وہ فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر ادا کر لے
حدیث نمبر: 4530
أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَقَدَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ لِخَادِمِهِ: " انْظُرْ مَا صَنَعَ النَّاسُ " وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَهَبَ الْخَادِمُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: قَدِ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الصُّبْحِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَأَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو کہا: دیکھو لوگوں نے کیا کیا ہے؟ ان دنوں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نابینا ہو چکے تھے۔ خادم گیا اور لوٹا تو کہنے لگا: لوگ صبح کی نماز پڑھ کر واپس آ رہے ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور وتر پڑھے۔