السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أصبح ولم يوتر فليوتر ما بينه وبين أن يصلي الصبح باب: اس شخص کا بیان جس نے صبح کر لی اور وتر نہ پڑھے تو وہ فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر ادا کر لے
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَتَى تُوتِرِينَ؟ قَالَتْ: " بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ " وَمَا يُؤَذِّنُونَ حَتَّى يُصْبِحُوا " قَوْلُهُ: وَمَا يُؤَذِّنُونَ حَتَّى يُصْبِحُوا أَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الْأَسْوَدِ، أَوْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَفِيهِ نَظَرٌ، فَقَدْ رُوِّينَا أَنَّ الْآذَانَ الْأَوَّلَ بِالْحِجَازِ كَانَ قَبْلَ الصُّبْحِ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُصَلِّي قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، أَوْ أَرَادَ بِهِ الْأَذَانَ الثَّانِي، وَعَلَى ذَلِكَ تَدُلُّ رِوَايَةُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبَى إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُوتِرُ فِيمَا بَيْنَ التَّثْوِيبِ، وَالْإِقَامَةِ، فَيَرْجِعُ مَذْهَبُهَا فِي ذَلِكَ إِلَى مَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.اسود کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ آپ وتر کب پڑھتی ہیں؟ فرمانے لگیں: اذان اور اقامت کے درمیان، مؤذن اذان نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ وہ صبح کر دیتے۔ راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ یہ قول اسود کا ہے یا ابواسحاق کا اور اس میں نظر ہے۔
(ب) حجاز میں پہلی اذان طلوعِ فجر سے پہلے ہوتی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طلوعِ فجر سے پہلے نماز پڑھتی تھیں یا اس نے دوسری اذان مراد لی ہے۔
(ج) ابو سعد کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اذان اور اقامت کے درمیان وتر پڑھا کرتی تھیں۔
(نوٹ) لیکن راجح مذہب سیدنا علی اور سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہما کا ہے۔