السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أصبح ولم يوتر فليوتر ما بينه وبين أن يصلي الصبح باب: اس شخص کا بیان جس نے صبح کر لی اور وتر نہ پڑھے تو وہ فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر ادا کر لے
حدیث نمبر: 4524
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَقَالَ: " نِعْمَ سَاعَةُ الْوِتْرِ " ثُمَّ كَانَتِ الْإِقَامَةُ عِنْدَ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس دروازے سے نکلے، پھر انہوں نے کہا: وتر کا یہ وقت افضل ہے، پھر اسی وقت اقامت ہو گئی۔