السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أصبح ولم يوتر فليوتر ما بينه وبين أن يصلي الصبح باب: اس شخص کا بیان جس نے صبح کر لی اور وتر نہ پڑھے تو وہ فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر ادا کر لے
حدیث نمبر: 4523
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ، وَأَنَا بَإِثْرِهِ، فَقَامَ عَلَى الدَّرَجِ فَاسْتَقْبَلَ الْفَجْرَ، فَقَالَ: " {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ} [التكوير: ١٨] أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ نِعْمَ سَاعَةُ الْوِتْرِ هَذِهِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوظبیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بازار کی طرف چلے اور میں ان کے پیچھے تھا، وہ ایک راستے کی طرف ٹھہرے اور فجر کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ﴾ [سورة التكوير: 17، 18] ”رات جب چھا جائے اور صبح جب پھوٹے“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ یہ وقت وتر کے لیے بہتر ہے۔“