❮
❯
حدیث نمبر: 4523
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ، وَأَنَا بَإِثْرِهِ، فَقَامَ عَلَى الدَّرَجِ فَاسْتَقْبَلَ الْفَجْرَ، فَقَالَ: " {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ} [التكوير: ١٨] أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ نِعْمَ سَاعَةُ الْوِتْرِ هَذِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوظبیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بازار کی طرف چلے اور میں ان کے پیچھے تھا، وہ سیڑھیوں پر ٹھہرے اور فجر کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ﴾
[سورة التكوير: 17، 18] ”رات جب چھا جائے اور صبح جب پھوٹے“ پھر انہوں نے فرمایا: ”وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ یہ وقت وتر کے لیے بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4523
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»