السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جعل قبل صلاة المغرب ركعتين باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مقرر کیں
حدیث نمبر: 4505
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ " قَالَ: أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: هُوَ شُعَيْبٌ، وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ قَالَ الشَّيْخُ: الْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ شَاهَدَ دُونَ مَنْ لَمْ يُشَاهِدْ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرمانے لگے: میں نے نبی ﷺ کے دور میں مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کی اجازت دی۔