السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستتار عند قضاء الحاجة باب: قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 448
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرُو بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ يَجْمَعُهُ، ثُمَّ يَسْتَدْبِرُهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَلْعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو قضائے حاجت کو جائے تو وہ چھپ جائے۔ اگر کوئی چیز نہ پائے تو ریت کا ایک ٹیلہ اکٹھا کرے پھر اس کی طرف پیٹھ کرے؛ اس لیے کہ شیطان بنی آدم کی شرم گاہوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔“