السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع باب: نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْتِرُوا يَا أَصْحَابَ الْقُرْآنِ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَيُقَالُ: لَمْ يَسْمَعْهُ الثَّوْرِيُّ مِنْ عَمْرٍو إِنَّمَا سَمِعَهُ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، فَذَكَرَ فِيهِ عَبْدَ اللهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، وَالْحَدِيثُ مَعَ ذِكْرِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ مُنْقَطِعٌ؛ لِأَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ.ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے قرآن والو! تم وتر پڑھو۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ ایک دیہاتی نے کہا کہ نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟ تو ابوعبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ نہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے۔
اسی طرح ایک جماعت نے اسے ثوری سے روایت کیا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ثوری نے اسے عمرو سے نہیں سنا، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے عمرو سے سنا ہے۔ اور عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے تو اس میں عبداللہ کا ذکر کیا ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث منقطع ہے، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا۔