السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع باب: نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ رَجُلًا، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ لَقِيَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مُحَمَّدٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: إِنَّهُ وَاجِبٌ قَالَ الْكِنَانِيُّ: فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فَرَضَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَانَ لَهُ عَهْدٌ عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ".محمد بن یحییٰ بن حبان، ابن محیریز رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص بنو مدلج انصار کے ایک شخص سے ملا اسے ابومحمد کہا جاتا تھا۔ اس نے اس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو ابومحمد نے کہا: واجب ہے۔ کنانی کہتا ہے کہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ابومحمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے: ”اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کو پڑھتا ہے ان میں سے کسی کو ضائع نہیں کرتا تو اللہ کا اس بندے کے لیے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو بندہ ان پانچ نمازوں کو نہیں پڑھتا تو اللہ کا اس کے لیے کوئی وعدہ نہیں۔ اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے جنت میں داخل کر دے۔“