السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الرخصة في ذلك في الأبنية باب: عمارتوں کے اندر ایسا کرنے کی رخصت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، قَدِمَ عَلَيْنَا قَصَبَةَ خِسْرُوجِرْدَ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا عَبْدِ الْمَلِكِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بِصُورٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، نا حَاتِمٌ، عَنْ عِيسَى الْخَيَّاطِ، قَالَ: قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: وَأَنَا أَعْجَبُ مِنَ اخْتِلَافِ أَبِي ⦗١٥١⦘ هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " دَخَلْتُ بَيْتَ حَفْصَةَ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَيْتُ كَنِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ ".سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوا، اچانک نظر پڑی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے بیت الخلاء کا منہ قبلہ کی طرف دیکھا۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو وہ اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ کی طرف نہ کرے۔“
(ج) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: دونوں نے سچ کہا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول صحرا کے بارے میں ہے کہ بلاشبہ اللہ کے بندے فرشتے اور جن نماز ادا کرتے ہیں، تو صحرا میں قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت ان کی طرف منہ نہ کیا کریں اور نہ ہی پیٹھ کریں اور ان کے بیت الخلاء گھر ہیں جن میں قبلہ نہیں ہے۔