السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
حدیث نمبر: 4417
أنبأ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَالِينِيِّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، مَنْ طَافَ فَلْيُصَلِّ أَيَّ حِينٍ طَافَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں، لیکن جو بیت اللہ کا طواف کرے وہ پڑھ سکتا ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”جس وقت بھی طواف کرے تو وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔“