السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
حدیث نمبر: 4407
أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَائِزِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ إِذَا صَلَّيْنَا لِوَقْتِهِمَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عصر اور فجر کے بعد نمازِ جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے، جب وہ دونوں اپنے وقت پر ادا کی گئی ہوں۔