السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
وَأَمَّا الَّذِي يُوَافِقُهُ فَفِيمَا، أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: " كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فُسْطَاطَهُ، وَأَنَا أَنْظُرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " وَقَدْ حَكَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ أَحَادِيثُ يُخَالِفُ بَعْضُهَا بَعْضًا قَالَ الشَّيْخُ: فَالْوَاجِبُ عَلَيْنَا اتِّبَاعُ مَا لَمْ يَقَعْ فِيهِ الْخِلَافُ، ثُمَّ يَكُونُ مَخْصُوصًا بِمَا لَا سَبَبَ لَهَا مِنَ الصَّلَوَاتِ، وَيَكُونُ مَا لَهَا سَبَبٌ مُسْتَثْنَاةً مِنَ النَّهْيِ بِخَبَرِ أُمِّ سَلَمَةَ وَغَيْرِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر میں تھے، انہوں نے عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے، میں دیکھ رہا تھا، پھر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ تینوں احادیث نقل کیں، پھر فرمایا: یہ احادیث ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم پر اس کی اتباع واجب ہے جس میں اختلاف واقع نہیں ہوا، پھر یہ (ممانعت) ان نمازوں کے ساتھ خاص ہے جن کا کوئی سبب نہیں، اور سبب والی نمازیں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا وغیرہ کی حدیث کی وجہ سے ممانعت سے مستثنیٰ ہیں۔ («وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“)