السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ وَيَنْهَى عَنْهَا، وَيُوَاصِلُ وَيَنْهَى عَنِ الْوِصَالِ " فَفِي هَذَا، وَفِي بَعْضِ مَا مَضَى إِشَارَةٌ إِلَى اخْتِصَاصِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاسْتِدَامَةِ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ وُقُوعِ الْقَضَاءِ بِمَا فَعَلَ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا "، وَكَأَنَّهَا لَمَّا رَأَتْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثْبَتَهُمَا حَمَلَتِ النَّهْيَ عَلَى هَاتَيْنِ السَّاعَتَيْنِ، وَالنَّهْيُ ثَابِتٌ فِيهِمَا وَقَبْلَهُمَا كَمَا ⦗٦٤٤⦘ مَضَى فَحَمْلُ ذَلِكَ عَلَى اخْتِصَاصِهِ بِذَلِكَ أَوْلَى، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى جَوَازِهَا إِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ بذات خود عصر کے بعد دو رکعت ادا کرتے تھے اور دوسروں کو منع فرمایا کرتے تھے اور خود صومِ وصال کرتے تھے، دوسروں کو صومِ وصال سے منع کرتے تھے۔
(ب) اس روایت میں اور گزشتہ بعض روایات میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں قضا ادا کرنے کے بعد ان دو رکعتوں پر ہمیشگی نبی ﷺ کا اختصاص تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ ”سورج کے طلوع یا غروب کا انتظار کیا جائے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے دوام کو دیکھا تو انہی کو ان دو وقتوں پر محمول فرمایا، حالانکہ نہی ان دونوں میں بھی ثابت ہے اور ان سے پہلے بھی، لہٰذا یہی درست ہے کہ یہ نبی ﷺ کا اختصاص تھا، واللہ اعلم۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی ایسی روایت بھی مروی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر عصر اول وقت میں پڑھ لی جائے تو یہ نماز جائز ہے۔)