السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهَا يَسْأَلُهَا عَنْ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: " وَالَّذِي هُوَ ذَهَبَ بِنَفْسِهِ، تَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا لَقِيَ اللهَ حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ أَوْ جَالِسٌ " فَقَالَ لَهَا: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَنْهَى عَنْهُمَا، وَيَضْرِبُ عَلَيْهِمَا، فَقَالَتْ: " صَدَقْتَ وَلَكِنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثْقِلَ عَلَى أُمَّتِهِ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.عبد الواحد بن ایمن فرماتے ہیں: میرے والد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جو مجھے مارنے والا ہے! نبی ﷺ نے ان کو اپنی وفات تک کبھی نہیں چھوڑا۔ آپ ﷺ پر آخری وقت میں نماز پڑھنا مشکل ہو گئی تو آپ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دو رکعتوں کی وجہ سے پٹائی بھی کر دیتے تھے اور منع بھی کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: انہوں نے درست کہا، لیکن نبی ﷺ (یہ نماز) مسجد میں نہیں پڑھتے تھے تاکہ امت پر بھاری نہ ہو جائے، اور آپ ﷺ تخفیف کو پسند فرماتے تھے۔