حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرٍ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ، ثُمَّ قَدْ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةِ ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ " بِعَامٍ " وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاودَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَفِيهِ: فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو منع کیا کرتے تھے کہ ”ہم قبلہ کی طرف منہ کریں یا اپنی شرمگاہوں کے ساتھ قبلہ کی طرف پشت کریں، جب ہم پانی بہائیں (یعنی پیشاب کریں)“، پھر میں نے آپ ﷺ کو آپ کی وفات سے ایک سال پہلے قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
(ب) سنن ابوداؤد میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے آپ کی روح قبض ہونے سے ایک سال پہلے دیکھا کہ آپ قبلہ کی جانب منہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 440
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 11»