السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
حدیث نمبر: 4396
أنبأ بِذَلِكَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ، ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا جو نبی ﷺ عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ عصر سے پہلے پڑھتے تھے، لیکن مصروفیت یا بھول کی وجہ سے عصر کے بعد پڑھیں، پھر ان پر ہمیشگی کی ہے۔