السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
حدیث نمبر: 4395
وَأنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى ⦗٦٤٢⦘ الْخُمُرِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
(ب) ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے گھر عصر کے بعد دو رکعت ادا کیں۔ میں نے پوچھا: آپ ﷺ نے یہ دو رکعت تو کبھی نہیں پڑھی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ظہر کے بعد والی دو رکعت ہیں جن سے میں مشغول ہو گیا تھا۔“