السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
جماع أبواب الاستطابة -- باب: النهي عن استقبال القبلة واستدبارها لغائط أو بول باب: استطابت (قضائے حاجت اور پاکی حاصل کرنے) کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: پیشاب یا پاخانے کے لیے قبلہ رخ ہونے یا قبلے کی طرف پیٹھ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 433
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: " أُعَلِّمُكُمْ". قَالَ: " فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا لِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلْيَسْتَنْجِ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ". " وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ مُخْتَصَرًا.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عجلان اسی سند سے بیان کرتے ہیں مگر انہوں نے «أُعَلِّمُكُمْ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے، فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف نہ منہ کرے اور نہ ہی پیٹھ، اور تین ڈھیلوں سے استنجا کرے“ اور آپ ﷺ نے گوبر اور بوسیدہ ہڈی (سے استنجا کرنے سے) منع فرما دیا۔