السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
جماع أبواب الاستطابة -- باب: النهي عن استقبال القبلة واستدبارها لغائط أو بول باب: استطابت (قضائے حاجت اور پاکی حاصل کرنے) کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: پیشاب یا پاخانے کے لیے قبلہ رخ ہونے یا قبلے کی طرف پیٹھ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ؟ قَالَ: فَقَالَ: " أَجَلْ، لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان سے کہا گیا:) تحقیق تمہارے نبی ﷺ نے تم کو ہر چیز سکھلائی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: «نَعَمْ» ”جی ہاں!“ بلاشبہ ہم کو منع کیا ہے کہ ”قضائے حاجت یا پیشاب کرتے وقت اپنا منہ قبلہ کی طرف کریں، یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں، یا تین ڈھیلوں سے کم استنجا کریں، یا گوبر اور ہڈی سے استنجا کریں۔“