السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من بسط شيئا فصلى عليه باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی چیز بچھائی اور اس پر نماز پڑھی
حدیث نمبر: 4279
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ فَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا " قَالَ: " وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں سے اچھے تھے۔ بعض اوقات نماز کا وقت ہو جاتا اور آپ ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپ ﷺ کے حکم پر جھاڑو دیا جاتا، پانی چھڑکا جاتا اور چٹائی بچھا دی جاتی تو نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ آپ ﷺ ہم کو نماز پڑھاتے۔ اس وقت آپ ﷺ کی چٹائی کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔