حدیث نمبر: 4264
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ سَيَّارٌ، أنبأ يَزِيدُ الْفَقِيرُ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلُ، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں: ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور پوری زمین کو میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنا دیا گیا ہے، میرا کوئی امتی جب نماز کا وقت پائے تو وہیں نماز پڑھ لے اور مجھے شفاعت بھی عطا کی گئی ہے اور ہر نبی اپنی خاص قوم کی جانب مبعوث کیا جاتا ہے، لیکن میں عام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4264
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 355-438»