السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : أينما أدركتك الصلاة فصل فهو مسجد وفي ذلك دلالة على أن أصل الأرض على الطهارة ما لم تعلم نجاسة باب: ”جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت پا لے وہیں نماز پڑھ لو وہی مسجد ہے“ کے بیان میں، اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ زمین اصل میں پاک ہے جب تک کہ اس پر کسی نجاست کا علم نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4263
أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلًا؟ قَالَ: " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ " قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أِيُّ؟ قَالَ: " ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى " قَالَ: قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ سَنَةً فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! زمین پر پہلی مسجد کون سی بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسجدِ حرام۔“ میں نے کہا: پھر کون سی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسجدِ اقصیٰ۔“ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس سال۔ جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے آپ نماز پڑھیں وہی مسجد ہے۔“