السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من صلى فيها، أو فيما يكره من الأعلام لم يعد باب: اس شخص کا بیان جس نے اس (ریشمی کپڑے) میں یا ان دھاریوں (نشانات) والے کپڑے میں نماز پڑھی جو مکروہ ہیں، تو وہ اسے نہیں دہرائے گا
حدیث نمبر: 4206
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " ⦗٥٩٣⦘ لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ: سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ وَقَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِبَاسُ هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ریشمی قمیص نبی ﷺ کو ہدیہ کی گئی، آپ ﷺ نے اسے پہنا اور اس میں نماز ادا کی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے اسے ناپسند کیا اور فوراً اتار دیا، پھر فرمایا: ”یہ لباس پرہیزگاروں کے لائق نہیں۔“
(ب) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دن آئے اور ریشمی قمیص کے اندر آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے اسے اتار دیا اور فرمایا: ”یہ لباس متقین کے لائق نہیں۔“