السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: نهي الرجال عن ثياب الحرير باب: مردوں کو ریشمی کپڑے پہننے سے منع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4202
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا؛ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا؛ لِتَبِيعَهَا أَوْ لِتَكْسُوَهَا " فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر دھاری دار قمیص فروخت ہوتے دیکھی، پھر انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے پہننے کے لیے نہیں دے رہا، بلکہ تو اسے فروخت کر دے یا کسی اور کو پہنا دے“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ماں کی طرف سے اپنے مشرک بھائی کو پہنا دی۔