السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: نهي الرجال عن ثياب الحرير باب: مردوں کو ریشمی کپڑے پہننے سے منع کرنے کا بیان
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا؛ لِتَلْبَسَهَا " فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر ایک دھاری دار قمیص دیکھی تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں تاکہ جمعہ کے دن پہنیں اور وفدوں سے ملاقات کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ پہنتے ہیں جن کے لیے آخرت میں کچھ بھی حصہ نہیں ہے۔“ پھر نبی ﷺ کے پاس کچھ قمیصیں آئیں، آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان میں سے ایک عطا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ چیز پہنا رہے ہیں جس کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ یہ فرمایا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے یہ آپ کو پہننے کے لیے نہیں دی“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں رہنے والے اپنے مشرک بھائی کو پہنا دی۔