السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: نجاسة الأبوال والأرواث وما خرج من مخرج حي باب: پیشاب، لید اور جاندار کے مخرج سے نکلنے والی ہر چیز کی نجاست کا بیان
حدیث نمبر: 4143
وَأنبأ أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُسَيْنِيُّ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ ⦗٥٧٩⦘ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى الْمَسْجِدِ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزْرِمُوهُ " فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تُتَّخَذُ لِهَذَا الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ وَالْقَذَرِ، إِنَّمَا تُتَّخَذُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَلِذِكْرِ اللهِ تَعَالَى " ثُمَّ أَمَرَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ بِذَنُوبٍ أَوْ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا، نبی ﷺ کے صحابہ نے اسے روکنے کی کوشش کی تو آپ ﷺ نے روکنے سے منع کیا۔ جب وہ فارغ ہوا تو نبی ﷺ نے بلا کر فرمایا: ”یہ مسجدیں پاخانہ، پیشاب اور گندگی کے لیے نہیں بنائی گئیں، یہ تو قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کے لیے بنائی گئی ہیں“، پھر آپ ﷺ نے کسی صحابی کو حکم دیا وہ پانی کا ڈول لایا اور آپ ﷺ نے اس پر پانی کو بہا دیا۔