السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: نجاسة الأبوال والأرواث وما خرج من مخرج حي باب: پیشاب، لید اور جاندار کے مخرج سے نکلنے والی ہر چیز کی نجاست کا بیان
حدیث نمبر: 4142
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ال لَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِكْرِمَةُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ مَهْ فَقَالَ: " دَعُوهُ " فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ فَقَالَ: " له: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلَا الْقَذَرِ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللهِ تَعَالَى وَالصَّلَاةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ " أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنَ مَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ایک دیہاتی آیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے روکنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ صحابہ نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مساجد ہیں، ان میں پیشاب اور گندگی درست نہیں، یہ تو اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے بنائی گئی ہیں۔“ یا جیسے نبی ﷺ نے فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا، وہ پانی کا ڈول لے کر آیا اور آپ ﷺ نے اسے پیشاب پر بہا دیا۔