السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المذي يصيب الثوب أو البدن باب: کپڑے یا بدن پر مذی لگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 4129
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتْ عِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ ذَلِكَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بہت زیادہ مذی والا تھا، نبی ﷺ کی بیٹی میرے نکاح میں تھی، چنانچہ میں آپ ﷺ سے سوال کرنے میں حیا محسوس کرتا تھا۔ میں نے ایک شخص سے سوال کرنے کا کہا، اس نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو یہ چیز پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو اور وضو کر۔“