السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المذي يصيب الثوب أو البدن باب: کپڑے یا بدن پر مذی لگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 4128
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنْهُ الِاغْتِسَالَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ: " يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَالْمُرَادُ بِالنَّضْحِ الْمَذْكُورِ فِي هَذَا الْخَبَرِ غَسْلُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَثَابِتٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِغَسْلِهِ مِنَ الْبَدَنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی، جس کی بنا پر میں بہت زیادہ غسل کرتا تھا۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے وضو ہی کافی ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا کروں جو میرے کپڑوں کو لگ جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی کا ایک چلو لے کر اپنے کپڑوں پر چھینٹے مار جہاں پر تو اسے دیکھے، بس یہی کافی ہے۔“