السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب الصلاة بالنجاسة وموضع الصلاة من مسجد وغيره -- باب: إمامة الجنب باب: نجاست کے ساتھ نماز پڑھنے اور مسجد و غیرہ میں نماز کی جگہ سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 4081
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجِرَاحِيُّ بِمَرْوَ ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ " لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ قُوَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ: إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ بِغَيْرِ وُضُوءٍ أَنَّ أَصْحَابَهُ يُعِيدُونَ، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ أَثْبَتَ أَنْ لَا يُعِيدَ الْقَوْمُ، هَذَا لِمَنْ أَرَادَ الْإِنْصَافَ بِالْحَدِيثِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس شخص کے لیے کوئی قوت موجود نہیں ہے جو یہ کہتا ہے کہ جب امام بغیر وضو کے نماز پڑھا دے تو اس کے ساتھی نماز لوٹائیں گے، اور دوسری حدیث زیادہ ثابت ہے کہ لوگ نماز نہیں لوٹائیں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو حدیث کے ذریعے انصاف چاہتا ہے۔