السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب الصلاة بالنجاسة وموضع الصلاة من مسجد وغيره -- باب: إمامة الجنب باب: نجاست کے ساتھ نماز پڑھنے اور مسجد و غیرہ میں نماز کی جگہ سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کی امامت کا بیان
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: صَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَرْضِنَا، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَى رَبِيعٍ مِنْهَا يَتَوَضَّأُ مِنْهَا فَإِذَا عَلَى فَخِذِهِ احْتِلَامٌ، فَقَالَ: هَذَا الِاحْتِلَامُ عَلَى فَخِذِي لَمْ أَشْعُرْ بِهِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ قَالَ: صِرْتُ وَاللهِ حِينَ أَكَلْتُ الدَّسَمَ وَدَخَلْتُ فِي السِّنِّ يَخْرُجُ مِنِّي مَا لَا أَشْعُرُ بِهِ " وَقَالَ مُحَمَّدٌ: فَمَا أَشْعُرُ بِهِ، وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَعَادَ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَلَمْ يَأْمُرْ أَحَدًا بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ.مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سوار ہو کر اپنی زمین کی طرف چلے گئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک نالے پر بیٹھ کر اس سے وضو کرنے لگے تو ان کی ران پر مَنی لگی ہوئی تھی، وہ فرمانے لگے: یہ میری ران پر مَنی لگی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں، اس کو صاف کر دیا، پھر اللہ کی قسم! جب بھی میں چکنائی والی چیز کھاتا ہوں، میں عمر کے ایسے حصے میں پہنچ گیا ہوں کہ مجھ سے ایسی چیز نکل جاتی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا۔ پھر آپ نے غسل کیا اور صبح کی نماز دہرائی، لیکن کسی ایک کو بھی نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔