السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: في المعوذتين باب: معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) کے بیان میں
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَالْأَبْوَاءِ إِذَا غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِـ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَأَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَيَقُولُ: " يَا عُقْبَةُ تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا " قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ ".سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جحفہ اور ابواء کے درمیان سفر کر رہا تھا کہ اچانک سیاہ کالی آندھی نے ہمیں گھیر لیا تو رسول اللہ ﷺ ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] کے ساتھ پناہ طلب کرنے لگے۔ ترجمہ: ”میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں“، ”میں انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں“ اور فرمانے لگے: ”اے عقبہ! ان دونوں (معوذتین) کے ساتھ پناہ طلب کر، کسی پناہ حاصل کرنے والے نے ان دونوں جیسی پناہ حاصل نہیں کی“۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ ہماری امامت کے دوران ان دونوں کی تلاوت کرتے تھے۔