السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب إزالة النجاسات بالماء دون سائر المائعات باب: دیگر بہنے والی اشیاء کے بجائے صرف پانی سے نجاستیں دور کرنے کا بیان
مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: " إِذَا حَكَّ أَحَدُكُمْ جِلْدَهُ فَلَا يَمْسَحْهُ بِرِيقِهِ فَإِنْهُ لَيْسَ بِطَاهِرٍ ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: امْسَحْهُ بِمَاءٍ، وَإِنَّمَا أَرَادَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ الرِّيقَ لَا يُطَهِّرُ الدَّمَ الْخَارِجَ مِنْهُ بِالْحَكِّ. ⦗٢٢⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " يَا عَمَّارُ، مَا نُخَامَتُكَ وَلَا دُمُوعُ عَيْنَيْكَ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ الْمَاءِ الَّذِي فِي رِكْوَتِكَ. إِنَّمَا تَغْسِلُ ثَوْبَكَ مِنَ الْبَوْلِ، وَالْغَائِطِ، وَالْمَنِيِّ، وَالدَّمِ، وَالْقَيْءِ " فَهَذَا بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ.سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی جلد کو کھرچے تو خشک منی کو نہ چھوئے، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ کھرچنا اس خون (کی جگہ) کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عمار! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو، تو اپنے کپڑے کو صرف بول و براز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔“
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے: ثابت بن حماد عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابلِ حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔