السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وجوب القراءة على ما نزل من الأحرف السبعة دون غيرهن من اللغات باب: دیگر لغات کے بجائے ان سات حروف (قراءات) پر قراءت کے واجب ہونے کا بیان جن پر قرآن نازل ہوا ہے
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " الْقِرَاءَةُ سُنَّةٌ " وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ اتِّبَاعَ مَنْ قَبْلَنَا فِي الْحُرُوفِ وَفِي الْقِرَاءَاتِ سُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ لَا يَجُوزُ مُخَالَفَةُ الْمُصْحَفِ الَّذِي هُوَ إِمَامٌ وَلَا مُخَالَفَةُ الْقِرَاءَاتِ الَّتِي هِيَ مَشْهُورَةٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ سَائِغًا فِي اللُّغَةِ أَوْ أَظْهَرَ مِنْهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَأَمَّا الْأَخْبَارُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي إِجَازَةِ قِرَاءَةِ: {غَفُورٌ رَحِيمٌ} [البقرة: ١٧٣]، بَدَلَ {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [النساء: ٢٦]؛ فَلَأَنَّ جَمِيعَ ذَلِكَ مِمَّا نَزَلَ بِهِ الْوَحْيُ، فَإِذَا قَرَأَ ذَلِكَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ مَا لَمْ يَخْتِمْ بِهِ آيَةَ عَذَابٍ بِآيَةِ رَحْمَةٍ أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ فَكَأَنَّهُ قَرَأَ آيَةً مِنْ سُورَةٍ وَآيَةً مِنْ سُورَةٍ أُخْرَى فَلَا يَأْثَمُ بِقِرَاءَتِهَا كَذَلِكَ، وَالْأَصْلُ مَا اسْتَقَرَّتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فِي السَّنَةِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا عَارَضَهُ بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تِلْكَ السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ اجْتَمَعَتِ الصَّحَابَةُ عَلَى إِثْبَاتِهِ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ.(ا) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قراءت سنت ہے۔
(ب) ان کی مراد اپنے سے پہلے والوں کی ہجوں میں اتباع کرنا ہے۔ قراءتوں میں جو لائقِ اتباع ہیں، ان میں اس مصحف کی مخالفت جائز نہیں جو امام ہے اور نہ ہی مشہور قراءتوں کی مخالفت جائز ہے، اگرچہ وہ اس کے علاوہ لغت میں جائز ہو یا زیادہ واضح ہی کیوں نہ ہو۔
(ج) رہی وہ احادیث جو «عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ”علیم حکیم“ کی جگہ «غَفُوْرٌ رَحِيْمٌ» ”غفور رحیم“ کی قراءت کی اجازت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں، وہ اس لیے کہ یہ بھی ان میں سے ہیں جن کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس کو اس کی جگہ کے علاوہ پڑھنا جائز ہے، آیتِ عذاب کو آیتِ رحمت سے یا آیتِ رحمت کو آیتِ عذاب سے نہ بدلے۔ یہ ایسا ہے گویا اس نے ایک آیت ایک سورت سے پڑھی اور دوسری آیت دوسری سورت سے، تو اس طرح پڑھنے سے وہ گناہ گار نہ ہوگا؛ اور اصل جس پر قراءت قائم ہے وہ وہی ہے جس پر رسول اللہ ﷺ، جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ دور کرنے کے بعد فوت ہوئے۔ اس سال رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا تھا۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے (قرآن کے) دو گتوں کے درمیان ثابت ہونے پر اجماع کر لیا۔